ابنا: چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس میں کہاہے کہ احتساب کا ایسا کوئی ادارہ نہیں رہا جس پر اعتماد کیا جاسکے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے رینٹل پاور پالیسی کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی، عدالت نے پہلے 450 میگاواٹ والے نندی پور اور 525 میگاواٹ والے چیچوکی ملیاں پراجیکٹس کے خلاف خواجہ آصف کی درخواست پر سماعت کی، وزارت پانی اور بجلی کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے بتایاکہ مجازاتھارٹی نے نندی پور پراجیکٹ کی منظوری دے دی ہے ، چیچوکی ملیاں کا منصوبہ ابھی منظور نہیں ہوا تاہم اسے 10 فیصد ایڈوانس کی رقم تقریبا 3 ارب روپے دے دی ہے، خواجہ آصف نے کہاکہ ان میں تاخیر کے ذمہ دار سابق وزیرقانون بابراعوان ہیں، ،عدالت نے جسٹس ریٹائرڈ رحمت حسین جعفری کی سربراہی میں کمیشن قائم کرتے ہوئے اسے ان دونوں پراجیکٹس کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپ دی ، کمیشن کو چار ہفتوں میں رپورٹ داخل کرنے کا کہاگیا ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ نیب کی تشکیل چیلنج ہوچکی ہے، ایف آئی اے پر اعتماد نہیں رہا، محتسب عہدہ خالی پڑا ہے، جوایماندار افسر ہو اسے گلگت بلتستان بھیج دیا جاتا ہے ، جس کے خلاف انکوائری کا کہیں اسے اہم عہدہ پر لگادیا جاتا ہے، کیس کے اور درخواست دہندہ وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے عدالت پیش ہوکرکہاکہ رینٹل پاور کی غلط پالیسی بنائی گئی ، وزارت پانی وبجلی نے بھی 2 بار گمراہ کن سمری کو کابینہ میں بھیجا تھا۔ ...........
/169